12 جولائی 2008
ہیپاٹائٹس کا عالمی دن
ابتدائی عمر میں دینے پر ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین
95 فی صد تک موثر ثابت ہوتی ہے
'' ہیپاٹائٹس کی اے سے ای تک پانچ مختلف اقسام ہیں اور ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین ابتدائی عمر میں دینی چاہیے کیونکہ یہ انفیکشن کے امکانات کو بہت کم کردیتی ہے۔'' یہ بات آغا خان یونیورسٹی کے کنسلٹنٹ گیسٹرواینٹرولوجسٹ ڈاکٹر وسیم جعفری نے کہی۔'' یہ ویکسین 95 فی صد تک موثر ہے اور اس بیماری سے وابستہ خطرناک عوامل سے بچاؤ کا بہترین طریقہ ہے۔'' انھوں نے یہ مشورہ عوامی آگہی کے ایک پروگرام میں دیا جو ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پر منعقد کیا جارہا تھا۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ انفیکشن ہونے کے بعد علاج مہنگا ہوتا ہے اور ہمیشہ موثر ثابت نہیں ہوتا۔
ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 300 سے 350 ملین افراد ہیپاٹائٹس بی وائرس کے حامل ہوتے ہیں جو کہ ہیپاٹائٹس کے تمام وائرسوں میں سب سے خطرناک ہے۔ یہ جگر کی کئی خطرناک بیماریوں کا باعث بنتا ہے مثلاً سروسس جو جگر کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔ ہر سال اس وائرس کی وجہ سے 2 ملین افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔
کنسلٹنٹ گیسٹرو اینٹرولوجسٹ ڈاکٹر حسنین علی شاہ سے نے 'ہیپاٹائٹس اے پاکستان میں ایک عام بیماری' کے موضوع پر گفتگو کی جو زیادہ تر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ "زیادہ تر بچے اپنی زندگی کے پہلے دس سالوں میں اس وائرس سے متاثر ہوتے ہیں"۔ یہ وائرس بنیادی طور پر ایسی خوراک اور پانی سے پھیلتا ہے جو فضلے سے آلودہ ہو۔ لہٰذا بیت الخلا جانے کے بعد اور کھانا پکانے سے پہلے ہاتھ دھونا اہم ہے اور بیماری کو پھیلنے سے بچاتا ہے۔
ہیپاٹائٹس سی پر بات کرتے ہوئے کنسلٹنٹ گیسٹرواینٹرولوجسٹ اور میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید حمید نے کہا کہ یہ جگر کی خرابی کا بھی سبب بن سکتا ہے۔ یہ تقریباً 75 فی صد مریضوں میں جگر کی شدید بیماری اور 50 فی صد میں جگر کے کینسر کا باعث بنتا ہے۔ "پاکستان میں اس وائرس کے پھیلنے کی شرح 6 فی صد ہے جو تقریباً 10 سے 11 ملین افراد پر مشتمل ہے۔ گوکہ ملک کے کچھ حصوں میں پھیلاؤ کی شرح 20 فی صد تک ہے۔ ایچ سی وی سے متاثرہ لوگوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ " انھوں نے اسے ایک فوری توجہ طلب مسئلہ قرار دیا جسے حکومت کی توجہ کی ضرورت ہے۔
کنسلٹنٹ گیسٹرواینٹرولوجسٹ ڈاکٹر خالد ممتاز نے ڈیلٹا ہیپاٹائٹس یا ایچ ڈی وی کے بارے میں معلومات فراہم کر تے ہوئے بتایا کہ اس مرض سے ہونے والی اموات کی شرح زیادہ ہے۔ ڈاکٹر ممتاز نے کہا کہ، " گو کہ علاج کی کامیابی کی شرح سست ہے لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شدید ایچ ڈی وی کے مریض جو جگر کی بیماری میں بھی مبتلا ہوں ان کا جلد از جلد علاج ہونا چاہیے۔ "
اے کے یو کے کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن ڈاکٹر ایس کیو نظامی نے بچوں میں ہیپاٹائٹس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ" ہیپاٹائٹس بی سے متاثرہ ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے 90 فی صد بچوں میں اگر پیدائش کے بعد ویکسینیشن نہ کی جائے تو وہ بھی اس بیماری کے وائرس کے حامل ہوجاتے ہیں اور ان میں سے 25 فی صد جگر کی شدید بیماری بشمول جگر کے کینسر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔" انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہیپاٹائٹس اے اور بی کے لیے جتنی جلدی ممکن ہو بچوں کو ویکسین فراہم کرنی چاہیے۔
کنسلٹنٹ گیسٹرو اینٹرولوجسٹ اور گیسٹرواینٹرولوجی سیکشن کے ایکٹنگ چیئر ڈاکٹر شہاب عابد نے ہیپاٹائٹس ای کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ انھوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس ای ترقی پذیر ممالک سے تعلق رکھنے والی بیماری ہے۔ پاکستان ان اہم علاقوں میں سے ایک ہے جہاں یہ انفیکشن پایا جاتا ہے۔ آلودہ پانی کی فراہمی اس انفیکشن کی ایک عام وجہ ہے۔ ہاتھوں کو دھونا اور پینے کے لیے محفوظ پانی کا استعمال اس بیماری سے بچاؤ کے بہترین طریقے ہیں۔ حالیہ طور پر ہیپاٹائٹس ای سے بچاؤ کے لیے کوئی ویکسین دستیاب نہیں۔
اے کے یو ایچ نے عوام سے رابطے کے پروگرام اور معاشرے میں فوری تشخیص اور بروقت علاج کی آگاہی پیدا کرنے کے سلسلے میں ایسے پروگرام منعقد کرتا ہے۔ ہسپتال 'آثار، علامات اور علاج‘ کے عنوان کے تحت کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ اور یو اے ای میں اب تک 300 سے زائد پروگراموں کا انعقاد کر چکا ہے جن سے اب تک 50,000 سے زائد افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کا پیشنٹ ویلفیئر پروگرام نادار اور مستحق مریضوں کو علاج کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اے کے یو ایچ میں زیر علاج 73 فی صد مریضوں کا تعلق درمیانے یا کم آمدنی والے طبقے سے ہے۔ 1986میں اس ویلفیئر پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 2 بلین روپے سے زائد رقم 300,000 سے زائد مستحق مریضوں پر خرچ کی گئی ہے۔
مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجئے :
ردا ترابی، سینئرمیڈیا ایگزیکٹیو، فون: 486-2931
حسّان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 486-2927
فبیھا پرویز، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 486-2925
پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000