Urdu Version
Download Urdu fonts

12 ستمبر، 2008

مقامی آبادی کی مدد سے ماؤں اور بچوں کی جان بچائی جا سکتی ہے

” صحت کے شعبے میں مقامی آبادی کی شرکت کے ذریعے ماؤں، نوزائیدہ اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی جان بچائی جا سکتی ہے “ ۔ یہ بات آغا خان یونیورسٹی کے شعبہ اطفال کے پروفیسر اور سربراہ ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ نے کہی۔ وہ بنیادی صحتِ عامہ کے اعلامیہ، الماتا ڈیکلریشن کے 30 سال پورے ہونے پر لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن میں منعقدہ عالمی سمپوزیم سے خطاب کر رہے تھے۔ اس مذاکرے کا اہتمام یو کے ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ اور طبّی جریدے دی لینسیٹ کے تعاون سے کیاگیا تھا۔ اس موقعہ پر ڈاکٹر بھٹہ نے مزید کہا کہ ” محدود وسائل کے باوجود بھی موزوں عملی اقدامات کے ذریعے بنیادی صحت کے شعبے میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے “ ۔

پاکستان کے حوالے سے ایک تازہ تحقیق کے مطابق اگر بنیادی صحت کے شعبے کی جانب توجّہ دی جائے تو ماں، نوزائیدہ اور چھوٹے بچوں کی تمام اموات میں 20 سے 30 فی صد تک کمی کی جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر بھٹہ نے بتایا کہ ” بنیادی صحت کی پالیسیاں بناتے وقت ہمیں مقامی آبادی کی شرکت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے۔ صحت کے سرکاری منصوبوں کو آگے بڑھانے اور پھر انہیں جاری رکھنے کے لیے مقامی آبادی کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ہمارے پاس یہ وسائل پہلے سے ہی موجود ہیں انھیں صرف موثر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس طرح ہم پاکستان میں ماں اور بچوں کی اموات کم کرنے کے لیے، ملینیئم ڈیویلپمنٹ گولز (ایم ڈی جیز)کے تحت اقوام متحدہ کے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ “

ڈاکٹر بھٹہ اور ان کے ساتھیوں نے ماں، نوزائیدہ اور بچوں کی صحت سے متعلق 37 بنیادی افزائشی، احتیاطی اور معالجاتی طریقہ کار کا جائزہ لیا تا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بہترین طریقہ کار متعین کیا جا سکے۔ ان کے مطابق کمیونٹی ہیلتھ ورکرز تعاون فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں مثال کے طور پرضرورت مند افراد اور ان کے قرب و جوار، بنیادی صحت اور صحت عامہ کے مراکز کو جراثیمی حملوں کے خلاف محفوظ بنانا (امیونائزیشن )اورماہر مڈوائف کی فراہمی۔

یہ تحقیق برطانوی میڈیکل جرنل لینسیٹ کے خاص ایلما تا اشاعت میں ایک آٹھ صفحاتی سیریز کا حصہ تھی۔آغا خان یونیورسٹی نے لندن اسکول آف ٹروپیکل میڈیسن اینڈ ہائجین کے ساتھ اشتراک میں اس سیریز کی تحقیق اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا جس کے لیے مالی تعاو ن نارویجین ایجنسی فار ڈیویلپمنٹ کو آپریشن اور آغا خان یونیورسٹی کے پا رٹنرشپ فار میٹرنل، نیو بورن اینڈ چائلڈ ہیلتھ نے فراہم کیا۔

اس سیریز کے دیگر مقالوں میں مصنفین نے دنیا کے بہت سے ممالک میں 1990 سے 2006 کے دوران(پانچ سال سے کم عمر) بچوں کی اموات میں اوسطاً سالانہ کمی کا جائزہ لیا۔ سات ممالک مثلاً تھائی لینڈ، نیپال، لا ﺅ س، بنگلادیش اور گوئٹے مالا ( جو دنیا کے چند غریب ترین ممالک میں شمار کیے جاتے ہیں) نے موثر ترین اور مخصوص حکمت عملی مثلاً گھروں میں موجود نمونیا کے شکار بچوں کے علاج کے لیے کمیونٹی ہیلتھ ورکرز اور امیونائزیشن کی مدد سے بچوں کی اموات میں کمی کے حوالے سے بہتری کا مظاہرہ کیا ہے۔دیگر ممالک مثلاًکیوبا نے یہ ہدف سب کے لیے بنیادی دیکھ بھال کی فراہمی سے حاصل کیا۔

لینسیٹ الماتا ورکنگ گروپ نے جن اقدامات کا مطالبہ کیا وہ یہ ہیں: " 30 سال قبل الماتا میں جن اصولوں پر اتفاق کیا گیا تھا ان کا اطلاق آج بھی اتنا ہی ہوتا ہے جتنا اس وقت ہورہا تھا۔ 2000 تک ' صحت سب کے لیے' کا حصول اب تک نہیں ہوا اور 2015 کے ایم ڈی جیز نہایت کم آمدنی والے ممالک میں اس وقت تک حاصل نہیں ہونگے جب تک بنیادی صحت کی سہولیات میں خاطر خواہ حد تک اضافہ نہ ہو۔" بنیادی صحت کی سہولیات اور نظاموں کو دوبارہ جلا دینے اور ماں، نوزائیدہ اور بچوں کی دیکھ بھال کے طریقہ کار کو مسلسل متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔

مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں حسان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، ڈیپارٹمنٹ آف پبلک افیئرز ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، کراچی

ف ون: + 92 - 21 486 2927
ای میل: hassaan.akhter@aku.edu

آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو)

ہز ہائی نس آغا خان کی قائم کردہ اور 1983 میں پاکستان کی پہلی غیر سرکاری یونیورسٹی کے طور پر چارٹر حاصل کرنے والی آغا خان یونیورسٹی(اے کے یو) کا مقصد عمومی طور پر انسانی بہبود اور بالخصوص پاکستان کے لوگوں کی فلاح کو فروغ دینا ہے جو ہیلتھ سائنسز، تعلیم اور یونیورسٹی کی متعین کردہ علوم کی دیگر شاخوں میں علم کے فروغ اور ہدا یات کی فراہمی، تربیت، تحقیق اور خدمات کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔ اے کے یو ایک بین الاقوامی یونیورسٹی ہے جس کی شاخیں آٹھ ممالک پاکستان، کینیا، یوگنڈا، برطانیہ، افغانستان، شام اور مصر میں موجود ہیں۔

ایلما تا

انٹرنیشنل کانفرنس آن پرائمری ہیلتھ کیئر ایلما تا (موجودہ الماتے) قازقستان میں 1978 میں منعقد کی گئی جس میں ڈبلیو ایچ او اور یونیسف کے تمام رکن ممالک نے شرکت کی۔ ایلما تا ڈیکلیریشن " دنیا کے تمام افراد کی صحت کا تحفظ اور فروغ" صحت عامہ کے میدان میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس اعلان نے بنیادی صحت عامہ کی دیکھ بھال کو " صحت سب کے لیے" کے مقصد کے حصول کے لیے اہم نکتہ قرار دیا۔ اس کانفرنس کے 30 سال مکمل ہونے پربرطانوی میڈیکل جرنل لینسیٹ نے ایک خصوصی شمارہ ایلما تا۔ 30 سال نکالا جس کا موضوع تھا " صحت سب کے لیے ایک خواب گم گشتہ نہیں ہے "

Home Site Map Contact Us
 
School of Nursing Hospitals Medical College Institute for the Study of Muslim Civilisations Institute for Educational Development Examination Board  Home Site Map Contact Us