Urdu Version
Download Urdu fonts


بتاریخ : 13جون 2008

ضروری چھان بین خون کا عطیہ دینے والے کی جان بچاسکتی ہے

 

دنیا بھر میں ہر سال انتقال خون کے ذریعے لاکھوں لوگوں کی جان بچائی جاتی ہے تاہم ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان میں لوگ اب تک ضروری مقدار میںخون اور خون کے اجزا نہ ملنے کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ "پاکستان میں عام طور پر لوگ اس وقت خون کا عطیہ دیتے ہیں جب کوئی خطرناک حادثہ پیش آتا ہے ، تاہم کبھی کبھار یہ عطیات اتنی دیر سے ملتے ہیں کہ لوگوں کو بچا یا نہیں جاسکتا۔ ملک کو رضاکارانہ بنیادوں پر باقاعدگی سے خون کا عطیہ دینے والے افراد کی ضرورت ہے۔" یہ بات آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ہیماٹولوجی اور اونکولوجی سیکشن کے سربراہ ڈاکٹر سلمان عادل نے زور دیتے ہوئے کہی۔ "خون کے عطیات عطیہ دینے والے کی زندگی بھی بچا سکتے ہیں کیونکہ چھان بین کے دوران کسی بیماری یا انفیکشن کا پتہ چل سکتا ہے۔ کئی لوگوں میں ہیپاٹائٹس یا دیگر بیماریوں کی تشخیص اس وقت ہوئی جب انھوں نے کسی رشتے دار یا دوست کوخون کا عطیہ دیا۔ خون دینے کے بعد زیادہ تر افراد جسمانی اور روحانی طور پر بہت اچھا محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ لائق تحسین عمل ایک انسانی جان بچاسکتا ہے۔ عطیہ کرنے والا اگر مستقبل میں کبھی بیمار ہو تو وہ بھی اس عمل سے مستفید ہوسکتا ہے۔ "

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ان 80 ممالک میں سے جہاں خون کا عطیہ کم دیا جاتا ہے 79 ترقی پذیر ممالک ہیں۔ ہر سال 14 جون کو خون کا عطیہ کرنے والوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ لاکھوں افراد کی جان بچانے اور صحت کا معیار بلند کرنے میں خون کا عطیہ دینے والوں کے کردار کو سراہا جاسکے۔ 'خون کا عطیہ باقاعدگی سے دیں' اس سال کا موضوع ہے، جو رضاکاروں کو باقاعدگی سے خون کا عطیہ دینے پر آمادہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔

اے کے یو کے شعبہ پیتھالوجی اور مائکروبائیولوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر، ڈاکٹر بشریٰ معز نے خون کا عطیہ دینے والوں کی عمومی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عطیہ دینے والے کی عمر کم از کم 18 سال، کم از کم وزن 50 کلو گرام اور اسے اچھی صحت کا حامل ہونا چاہیے۔ ایک نارمل انسانی جسم میں پانچ لٹر خون ہوتا ہے۔ خون کا عطیہ دینے والے شخص پر کسی قسم کے اثرات مرتب نہیں ہوتے کیونکہ آدھے لٹر سے کم خون لیا جاتا ہے۔ عطیہ کرنے کے بعد جسم میں مائعات کی مقدار چند گھنٹوں میں پوری ہوجاتی ہے اور خون کے سرخ خلیات چند ہفتوں میں دوبارہ پیدا ہوجاتے ہیں۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ، "تبادلے میں یا معاوضہ لے کر خون دینے والے افراد میں عام طور پر لگنے والے انفیکشن کی شرح قابل ذکر حد تک زیادہ ہوتی ہے۔ محفوظ ترین ڈونرز وہ ہیں جو رضاکارانہ بنیاد پر خون کا عطیہ دیتے ہیں۔ "

14 جون کو ہونے والے' ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے' کے پروگرام میں اے کے یو کے ماہرین خون کی کمی سے بچنے کے لیے باقاعدگی سے خون دینے کی ضرورت پر زور دیں گے۔ اس موقع پر رضاکارانہ طور پر خون کا عطیہ دینے کے لیے ایک کیمپ بھی لگایا جائے گا۔

خون کا عطیہ دینے کے بارے میں مزید معلومات کے لیے وزٹ کیجئے :

http://www.aku.edu/events/pdf/Blood_donation_information_brochure.pdf

مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجئے :

ردا ترابی، سینئرمیڈیا ایگزیکٹیو، فون: 4862931

حسّان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 4862927

فبھا پرویز، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 4862925

پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000

فیکس: 4932095, 4934294

Home Site Map Contact Us
 
School of Nursing Hospitals Medical College Institute for the Study of Muslim Civilisations Institute for Educational Development Examination Board  Home Site Map Contact Us