17 جولائی 2008
کینسر پاکستان میں ہونے والی 6.1 فی صد اموات کا باعث ہے
اگلے بیس سالوں میں کینسر سے ہونے والی اموات کی یہ شرح تقریباً دگنی ہوجائے گی
"پاکستان میں ہر سال 100,000 افراد کینسر سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ملک میں ہونے والی 6.1 فی صد اموات کینسر کے باعث ہوتی ہیں، اگلے بیس سالوں میں یہ شرح تقریباً دگنی ہونے کا امکان ہے۔" ان خیالات کا اظہار آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) کے کنسلٹنٹ میڈیکل اونکولوجسٹ ڈاکٹر عدنان زیدی نے کیا۔ وہ اے کے یو کے زیراہتمام ' آثار، علامات اور علاج' نامی عوامی آگہی کے ایک پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔
انھوں نے کینسر کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم کے خلیات غیر معمولی رفتار سے بڑھتے تو ہیں لیکن ختم نہیں ہوتے۔ کینسر سے متاثرہ یہ خلیات جسم کے دیگر حصوں تک بھی پھیل جاتے ہیں۔ کینسر کی سو سے زائد اقسام ہیں اور یہ جسم کے تقریباً تمام اعضا میں ہوسکتا ہے۔ سینے ، پھیپھڑوں، سر، گردن، آنتوں، مقعد، گردوں، مثانے، تھائرائڈ، جلد، پراسٹیٹ، لیوکیمیا، میلانوما اور نان ہاجکن لمفوما کے کینسر نہایت عام ہیں۔
بریسٹ کینسر کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ کینسر کی یہ قسم خواتین میں بے حد عام ہے تاہم میموگرام اورسینے کے معائنے کے دیگر طریقوں سے اس کی جلد شناخت اور فوری علاج ممکن ہے۔ اس کے برعکس مردوں میں پھیپھڑوں اور سر اور گردن کے کینسر نہایت عام ہیں ۔ سگریٹ نوشی، تمباکو، نسوار، پان، گٹکے اور چھالیہ کا استعمال کینسر کے اہم اسباب ہیں۔
کینسر کی علامات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر زیدی نے بتایا کہ مستقل تھکن اور ڈائٹنگ کے بغیر وزن میں دس پونڈ یا زائد کی کمی بھی کینسر کی ابتدائی علامات ہوسکتی ہیں۔ علاج کے رد عمل یا مدافعتی نظام متاثر ہونے کے باعث مریض بخار میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ مریض کی زرد یا گہری رنگت، جسم پر غیر ضروری بالوں کی نشوونما، سرخی اور خارش بھی کینسر کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگرکینسر کی فوری تشخیص ہوجائے تو اس کا جلداور بہتر علاج ممکن ہے۔
ڈاکٹر زیدی کا کہنا تھا کہ کم خرچ لیکن طویل المدتی احتیاطی تدابیر اختیار کرکے کینسر کے کیسز کی کم از کم ایک تہائی تعداد کو کم کیا جاسکتا ہے۔ کینسر سے بچا ؤ کا بہترین طریقہ تمباکو نوشی سے پرہیز ہے۔ دھوپ کی زیادتی اور شراب نوشی وہ خطرناک عوامل ہیں جن سے پرہیز کرکے کینسر سے بچاؤ ممکن ہے۔ ایسے افراد جنھیں کینسر ہونے کے امکانات زیادہ ہوں وہ ادویات کے ذریعے بھی اس خطرے کو کم کرسکتے ہیں۔ کینسر کی وہ اقسام جن کا تعلق جدید طرز زندگی اور ماحولیاتی عوامل سے ہے ان سے بچاؤکے لیے لوگوں میں تمباکو نوشی کے خطرناک اثرات اور ہیپاٹائٹس بی کی ویکسینیشن سے متعلق آگہی پیدا کرنی ضروری ہے۔ انھوں نے ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ کینسر سے متعلق آگہی کے فروغ کے لیے اپنے وسائل استعمال کریں۔
اے کے یو ایچ عوام سے رابطے کے پروگرام اور معاشرے میں فوری تشخیص اور بروقت علاج کی آگہی پیدا کرنے کے سلسلے میں ایسے پروگرام منعقد کرتا ہے۔ 'آثار، علامات اور علاج‘ کے عنوان کے تحت ہسپتال کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ اور یو اے ای میں اب تک 300 سے زائد پروگراموں کا انعقاد کر چکا ہے جن سے اب تک 50,000 سے زائد افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کا پیشنٹ ویلفیئر پروگرام نادار اور مستحق مریضوں کو علاج کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اے کے یو ایچ میں زیر علاج 73 فی صد مریضوں کا تعلق درمیانے یا کم آمدنی والے طبقے سے ہے۔ 1986میں اس ویلفیئر پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 2 بلین روپے سے زائد رقم 300,000 سے زائد مستحق مریضوں پر خرچ کی گئی ہے۔
مزید معلومات کے لیے رابطہ کیجئے:
ردا ترابی، سینئرمیڈیا ایگزیکٹیو، فون: 486-2931
حسّان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فو ن: 486-2927
فبیھا پرویز، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 486-2925
پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000
فیکس:
493-4294, 493-2095