27مئ 2008
ہرچھٹے سیکنڈ د نیا میں ایک شخص سگریٹ نوشی سے ہلاک ہورہا ہے
کراچی میں کالجوں کے 24 فی صد طلبا اور 16 فی صد طالبات باقاعدگی سے سگریٹ نوشی کرتے ہیں
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، تمباکو کے استعمال سے اوسطاً ہر چھ سیکنڈ میں ایک شخص ہلاک ہوتا ہے اور یہ عمل دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک شخص کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے ، ہر سال تقریباً 5.4 ملین افراد اس سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 22 ملین سگریٹ نوش افراد موجود ہیں اور تقریباً آدھے گھرانوں میں کم از کم ایک فرد سگریٹ نوشی کرتا ہے۔
عالمی طور پر تمباکو اموات کا دوسرا بڑا سبب ہے اور لوگوں کی صحت کو لاحق وہ سب سے بڑا خطرہ ہے جس کا دنیا کو آج سے پہلے سامنا نہ تھا۔ بیسویں صدی میں تمباکو سے سو ملین افراد ہلاک ہوئے تھے اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو اکیسویں صدی میں ایک بلین اموات ہونے کا امکان ہے۔ اگر اس کو نظر اندازکیا گیا تو 2030 تک تمباکو کے استعمال سے ہونے والی اموات میں آٹھ ملین فی سال کا اضافہ ہوجائے گا اور ان میں سے اسی فی صد اموات پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ہونگی۔
آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) کے زیر اہتمام 'ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے' پر ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شعبہ صحت کے ماہرین نے ملک میں نوجوانوں میں بڑھتے ہوئے سگریٹ نوشی کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔ گذشتہ سال اے کے یو میں ہونے والی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے پلمونری میڈیسن کے سیکشن کے سربراہ پروفیسر جاوید خان نے کہا کہ کراچی میں کالجوں کے 24 فی صد طلبا اور 16 فی صد طالبات باقاعدگی سے سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں یہ شرح مزید بڑھی ہوئی ہے جہاں 28 فی صد نوجوان سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ انھوں نے نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کے لیے سگریٹ نوشی کی ممانعت اور سگریٹ نوشی نہ کرنے والوں کی صحت کے تحفظ کے آرڈیننس برائے 2002 کے سختی سے اطلاق کامطالبہ کیا۔ سگریٹ نوشی پر پابندی پاکستان میں سگریٹ نوشی سے ہونے والی اموات سے بچاو
او کا واحد اور سب سے اہم طریقہ ہے۔ انھوں نے کہا، ”حکومت پاکستان نے ڈبلیو ایچ
فریم ورک کنوینشن آن ٹوبیکو کنٹرول پر دستخط کیے ہیں اوراقوام متحدہ کے اس معاہدے کے مطابق حکومت ملک میں سگریٹ نوشی کے خلاف اہم اقدامات کرنے کی پابند ہے۔"
ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے تمباکو اور ان کارپوریشنز کے خلاف ایک سالانہ احتجاج ہے جو اس کے استعمال کو فروغ دیتی ہیں۔ اس سال کا موضوع 'تمباکو سے آزاد نوجوان' ہے جس کا مقصد تمباکو کی تمام اقسام کی مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ بشمول تقریبات اور سرگرمیوں کی اسپانسرشپ پر پابندی لگا کر نوجوان نسل کو تمباکو نوشی سے محفوظ رکھنا ہے۔
کنسلٹنٹ چیسٹ فزیشن ڈاکٹر سلیمان حق نے پاکستان میں تمباکو کی بین الااقوامی کمپنیوں کے مارکیٹنگ حربوں سے عوام کو آگاہ کیا۔ پھیپھڑوں پر تمباکو نوشی کے اثرات کے بارے میں بتاتے ہوئے ڈاکٹر حق نے کہا کہ پھیپھڑوں کی کرانک اوبسٹرکٹیو بیماری کے 90 فی صد کیسز کا سبب سگریٹ نوشی ہے۔ اس کا علاج بہت مشکل ہے اور اس کی شرح میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، زیادہ تر مریضوں میں یہ بیماری عمل تنفس کی ناکامی پر ختم ہوتی ہے۔ انھوںنے کہا، '' پاکستانی مردوں میں کینسر سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ پھیپھڑوں کا کینسر ہے اور ایسے 90 فی صد سے زائد کیسز تمباکو کے استعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں۔"
سیمینار میں تقریروں کا ایک مقابلہ بھی منعقد کیا گیا جس میں کراچی کی میڈیکل یونیورسٹیوں کے طلبا کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور پاکستان میں تمباکو کے استعمال کو روکنے کی تجاویز پیش کیں۔ ان میں تمباکو کے اشتہارات کی تمام اقسام اور اسپانسرشپ پر جامع پابندی، تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ، صاف ہوا کے قوانین کا نفاذ اور پاکستان کے تمام اہم ہسپتالوں میں 'اسٹاپ اسموکنگ' کلینیکس کا قیام شامل ہے۔
کنسلٹنٹ چیسٹ فزیشن ڈاکٹر محمد عرفان نے کہا کہ تمباکو کمپنیوں کی جارحانہ مارکیٹنگ کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1500 نوجوان سگریٹ نوشی کا آغاز کررہے ہیں۔ انھوں نے شہری حکومتوں پر زور دیا کہ وہ اسکولوں اور کالجوں میں تمباکو اور اس کے نقصانات سے آگاہی کے لیے تعلیمی مہم کا آغاز کریں۔ ''کھیلوں اور دیگر تفریحی پروگراموں میں تمباکو کی صنعت کی جانب سے اسپانسر شپ پر پابندی اور ایک ایسے قانون کا نفاذ ہونا چاہیے جو تعلیمی اداروں کی پچاس میٹر کی حدود میں تمباکو کی مصنوعات کی فروخت کو واضح طور پر روکتا ہو۔" نکوٹین کی کمی کی علامات صرف چند ہفتوں تک برقرار رہتی ہیں اور مضبوط قوت ارادی اور مخصوص ادویات کی مدد سے سگریٹ نوشی ترک کرنا مشکل نہیں۔ یہ ایک غلط فہمی ہے کہ کم سگریٹ پینے والے افراد کو تمباکوسے وابستہ صحت کے مسائل کا خطرہ نہیں ہوتا۔ سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں وہ افراد جو دن میں ایک سے چار سگریٹیں پیتے ہیں ان کے ہارٹ اٹیک اور پھیپھڑوں کے کینسر سے مرنے کے امکانات تین گنا زیادہ ہیں۔
ہیڈ اور نیک سرجن ڈاکٹر شہزاد غفار نے کہا کہ گٹکے اور پان مصالحے کی صورت میں تمباکو کا استعمال بھی پاکستان میں اور خاص طور پر بچوں میں بڑھتا جارہا ہے اور اس کا نتیجہ سر اور گردن کے کینسر کے واقعات میں اضافے کی صورت میں نکل رہا ہے۔ انھوں نے تاسف سے کہا کہ، '' بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں سے ہے جہاں منہ کے کینسر کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں۔"
پروگرام کے اختتام پر محترمہ حمیرا وحید ہیڈ نرس، کنسلٹنگ کلینک نے ایک وڈیو فلم دکھائی جس میں تمباکو کی مختلف اقسام سے کینسر میں مبتلا ہونے والے مریض اپنے تجربات بتارہے تھے۔ اگر نوجوان افراد کو سگریٹ نوشی کے نقصانات سے بچانا ہے تو پاکستان کو تمباکو کے اشتہارات پر مکمل پابندی لگانی ہوگی۔
مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں :
رسول سارنگ، اسسٹنٹ مینیجر میڈیا، فون: 486-3920
حسّان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 486-2927
پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000
فیکس: 493-2095, 493-4294