13 اکتوبر، 2008
عالمی یوم اساتذہ 2008
تعلیمی ماہرین کی جانب سے اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی پر زور
اساتذہ کے معیار میں اضافہ کے لیے مستقل بنیادوں پر پیشہ ورانہ تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لیے موجودہ نظام کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ عالمی یوم اساتذہ کے موقعے پرآغا خان یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ ، ادارہ تعلیم وآگاہی اور یو نیسکوپاکستان کی جانب سے مشترکہ طور پرمنعقدہ ایک روزہ ورکشاپ میں شرکاءنے اس بات کا اعتراف کیا۔اس ورکشاپ میں سندھ سے تعلق رکھنے والے 80 سے زائد اساتذہ اورتربیت کاروں نے شرکت کی۔
اس موقعے پر سندھ کی سابق وزیر تعلیم پروفیسر انیتا غلام علی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کی تربیت ،تصدیق اورمعیار کے حوالے یونیسکو اور یو ایس ایڈ کی قابل قدرتحقیق کووسیع طور پر پھیلانا چاہیے تا کہ اس کو تعلیمی پالیسی اور اس کے اطلاق کا حصہ بنایا جائے۔ اس ورکشاپ کی تجاویز بھی پالیسی ساز اداروں،سندھ کے قانون ساز ادار وں، تعلیم کے حوالے سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اور وزارت تعلیم کے سامنے رکھی جائیں تاکہ نئی قومی تعلیمی پالیسی کی تشکیل کے دوران حکومت ان پر غورکرے اور ان سے استفادہ کیا جائے۔
ورکشاپ میں موجودشرکاءنے اپنے تجربات اور تجاویز پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قابلیت کی بنیاد پر اساتذہ کی بھرتی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس مقصدکے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے نظام اورٹیچر ریسورس سینٹرز کو فعال بنایا جانا چاہیے جہاں مستعدعملہ اور مالی معاونت موجود ہو۔حکومت کونجی شعبے کی مالی معاونت سے موجودہ ذرائع میں جدت پسند ی اورپیشہ ورانہ ترقی کے عمل کا اعادہ کرنا چاہیے جس کے ذریعے انٹر نیٹ اور جدید ابلاغی سہولیات کے استعمال پر زور دیا جائے۔ ثانوی تعلیم کے سرکاری اداروں اور اساتذہ کے تربیتی کالجوں میں انٹر نیٹ کی فعال سہولیات فراہم کی جائیں
تا کہ طلبا اور اساتذہ کو پیشہ ورانہ ترقی اوررابطے کے بہترمواقع حاصل ہوں۔شرکاءنے یہ بھی تجویزدی کہ پروونشل انسٹیٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن (پی آئی ٹی ای)، بیورو آف کریکیولم اور گورنمنٹ ایلیمنٹری کالج آف ایجوکیشن کو مشترکہ طور پر فاصلاتی تعلیم، تعلیمی ٹیکنالوجی اور معلوماتی ابلاغ کے ماہرین پر مشتمل ایک مضبوط ٹیم تشکیل دینی چاہیے۔پیشہ ورانہ تدریس کے آغاز سے قبل اور اس کے دوران تخلیقی صلاحیتوں کے حصول کے لیے اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرنے کے علاوہ ثانوی اور مڈل
ا سکولوں کے اساتذہ کوتعلقہ اور تحصیل کی سطح پر قومی نصاب 2006 کی اردو اور سندھی نقول فراہم کی جانی چاہییں۔
ورکشاپ کے شرکا ءکا تعلق مختلف تعلیمی نیٹ ورک اور اداروں سے تھا جن میں پروفیشنل ٹیچر ایسوسی ایشن نیٹ ورک، سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی، بیورو آف کریکیولم، پی آئی ٹی ای نوابشاہ، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن،سوسائٹی آف پاکستان انگلش لینگویج ٹیچرز(اسپیلٹ)، ای ڈی لنکس،ٹیچرز ریسورس سینٹر،انٹرنیشنل ایجوکیشن اینڈریسورس نیٹ ورک(آئی ای اے آر این)، انٹیل اور انڈس ریسورس سینٹر شامل ہیں۔انھوں نے سرکاری اور نجی شعبوں سے حاصل ہونے والے متنوع تجربات بھی پیش کیے۔
ا س ورکشاپ کے موقعے پر انیتا غلام علی ٹیچرز ایوارڈ کا اجراءبھی کیا گیا۔ یہ ایوارڈ ملک بھر کے ثانوی سطح (نویں اور دسویں جماعت )کے اساتذہ اور ہیڈ ٹیچرز کو اسکول کی بہتری کے سلسلے میں ان کی کوششوں پر دیا جائے گا۔پہلا اور دوسرا انعام بالترتیب ایک لاکھ اور پچاس ہزار روپے کے ہونگے۔ درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 نومبر، 2008 ہے۔ تفصیلات ویب سائٹ www.itacec سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں ردا ترابی،
سینیئر میڈیا ایگزیکٹیو، ڈیپارٹمنٹ آف پبلک افیئرز ،
آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، کراچی ،
فون: +92-21-486 2931
ای میل : rida.turabi @aku.edu
آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو)
ہز ہائی نس آغا خان کی قائم کردہ اور 1983 میں پاکستان کی پہلی غیر سرکاری یونیورسٹی کے طور پر چارٹر حاصل کرنے والی آغا خان یونیورسٹی(اے کے یو) کا مقصد عمومی طور پر انسانی بہبود اور بالخصوص پاکستان کے لوگوں کی فلاح کو فروغ دینا ہے جو ہیلتھ سائنسز، تعلیم اور یونیورسٹی کی متعین کردہ علوم کی دیگر شاخوں میں علم کے فروغ اور ہدا یات کی فراہمی، تربیت، تحقیق اور خدمات کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔ اے کے یو ایک بین الاقوامی یونیورسٹی ہے جس کی شاخیں آٹھ ممالک پاکستان، کینیا، یوگنڈا، برطانیہ، افغانستان، شام اور مصر میں موجود ہیں۔