29 اگست، 2008
ضایع شدہ ا نگوٹھے سرجری کے ذریعے دوبارہ بنائے جا سکتے ہیں
" انگوٹھا ضایع ہوجانے کی صورت میں ہاتھ کی کارکردگی 40 فی صد متاثر ہوتی ہے" آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے کنسلٹنٹ آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر ہارون رشید نے یہ بات کوئٹہ میں صحت سے متعلق آگا ہی کے ایک پروگرام میں حاضرین کو بتائی۔لیکن ہاتھوں کی سرجری کا ایک نیا طریقہ اس مسئلہ کو موثر انداز میں حل کر سکتا ہے اور سرجن ضایع شدہ انگوٹھے کو دوبارہ بناکر ہاتھوں کی کاکردگی کو بحال کر سکتے ہیں ۔
ڈاکٹر رشید نے کہا،" اے کے یو میں ہاتھوں کی سرجری کے لیے ایک کامیاب پوسٹ گریجویٹ پروگرام موجود ہے۔ مڑے ہوئے ہاتھ ہڈیوں کی ایک عام پیچیدگی ہیں خواہ پیدائشی ہوں یا کسی حادثے کا نتیجہ ہوں۔اس پیچیدگی کو جدیدتحقیق کی مدد سے دور کیا جا سکتا ہے۔" انھوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر کیسز میں مرض کی جلد تشخیص سے علاج میں مددمل سکتی ہے، تاہم ہاتھوں کے زیادہ پیچیدہ مسائل کی بحالی کے لیے سرجری بہتر نتائج دے سکتی ہے۔
ڈاکٹر رشید نے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں موجود ایک موثر روسی تکنیک الیزا روف کا بھی ذکر کیاجس سے زیادہ لوگ واقف نہیں ہیں۔ اس میں حادثے کا شکار ہونے والے اعضاءکو آلات کی مدد سے بیرونی طوردوبارہ سیدھا کیا جاتا ہے۔ اس تکنیک کی مدد سے ہڈیوں کے مختلف پیچیدہ مسائل کا علاج کیا جاسکتا ہے مثلاً بدہیئت ہڈیاں،حادثے کے بعدکھوپڑی کے نقائص ، ہڈیوں کے پرانے نقائص او ر پیچیدہ فریکچرز۔ہسپتال میں ایک الیزاروف کلینک شروع کیا گیا ہے جہاں ماہر سرجن اس تکنیک کی مدد سے300 سے زائدافراد کا کامیاب علاج کر چکے ہیں۔
ہسپتال کے کنسلٹنٹ آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر مسعود عمر نے گھٹنے کے درد پر قابو پانے کے لیے کچھ طریقوں کا ذکر کیا۔ڈاکٹر عمر نے بتایا کہ نوجوان خواتین میں گھٹنے کے درد کا بہترین علاج ورزش ہے جبکہ حادثے کے بعد ہونے والے درد کو معمولی آپریشن سے دور کیا جا سکتا ہے۔
عمر رسیدہ افراد میں گھٹنے کا درد عموماً جوڑوں کے درد کے باعث ہوتا ہے اور اگر جلد تشخیص ہو جائے تو درد میں کمی کی ادویات، گھٹنے کی ورزشوں اور باقاعدہ چہل قدمی کی مدد سے اس کا علاج کی جا سکتا ہے۔ جوڑوں کا درد شدید ہو جانے کی صورت میں آپریشن کیا جا سکتا ہے۔
مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں حسان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، ڈیپارٹمنٹ آف پبلک افیئرز ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، کراچی
فون: 2927 486-21-92 +
hassan.akhter@aku.edu : ای میل
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال، کراچی (AKUH,K) نے آغا خان یونیورسٹی کے تحت صحت عامہ فراہم کرنے والے ایک منظم ادارے کے طور پر 1985 میں اپنے کام کا آغاز کیا۔ یہ انسان دوست، غیر نفعی بنیادوں پر چلنے والا تدریسی ادارہ ہے جس کا مقصد مریضوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے بیماری کی تشخیص اور ٹیم مینجمنٹ کو بہترین صورت میں بروئے کار لانا ہے۔اے کے یو ایچ میں زیر علاج 73 فی صد مریضوں کا تعلق درمیانے یا کم آمدنی والے طبقے سے ہے۔ وہ ا فراد جو علاج کے اخراجات اٹھانے سے قاصر ہوتے ہیں ان کی مختلف ذرائع سے معاونت کی جاتی ہے ۔ ان میں سے ایک 1986میں شروع کیا گیا پیشنٹ ویلفیئر پروگرام ہے جس کے تحت اب تک 2 بلین روپے سے زائد رقم 300,000 سے زائد مستحق مریضوں پر خرچ کی گئی ہے۔
اے کے یو ایچ نے عوام سے رابطے کے پروگرام اور معاشرے میں فوری تشخیص اور بروقت علاج کی آگاہی پیدا کرنے کے سلسلے میں 'آثار، علامات اور علاج‘ کے عنوان کے تحت کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ اور یو اے ای میں اب تک 300 سے زائد پروگراموں کا انعقاد کیا ہے جن سے اب تک 50,000 سے زائد افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
آغا خان یونیورسٹی
ہز ہائی نس آغا خان کی قائم کردہ اور 1983 میں پاکستان کی پہلی غیر سرکاری یونیورسٹی کے طور پر چارٹر حاصل کرنے والی آغا خان یونیورسٹی(اے کے یو) کا مقصد عمومی طور پر انسانی بہبود اور بالخصوص پاکستان کے لوگوں کی فلاح کو فروغ دینا ہے جو ہیلتھ سائنسز، تعلیم اور یونیورسٹی کی متعین کردہ علوم کی دیگر شاخوں میں علم کے فروغ اور ہدا یات کی فراہمی، تربیت، تحقیق اور خدمات کے ذریعے پورا کیا جاتا ہے۔ اے کے یو ایک بین الاقوامی یونیورسٹی ہے جس کی شاخیں آٹھ ممالک پاکستان، کینیا، یوگنڈا، برطانیہ، افغانستان، شام اور مصر میں موجود ہیں۔