Urdu Version
Download Urdu fonts

6 جون 2008

 

دنیا بھر میں 10 سے 15 فی صد جوڑے بانجھ پن سے متاثر ہوتے ہیں

" دنیا میں 10 سے 15 فی صد جوڑے بانجھ پن سے متاثر ہوتے ہیں تاہم مختلف طریقوں کی مدد سے ان میں سے کئی جوڑوں کا علاج کیا جاسکتا ہے۔" خواتین کی صحت کے لیے عملی اقدامات کے عالمی دن پر آغا خان یونیورسٹی کے زیر اہتمام عوامی آگہی کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کنسلٹنٹ آبسٹیٹریشن اور گائنی کولوجسٹ ڈاکٹر فوزیہ حق نواز نے کہی۔ ان میں سے 40 فی صد کیسز کا سبب مردوں کا بانجھ پن ہوتا ہے انھوں نے مشورہ دیا کہ اگر ایک سال تک کوشش کے باوجود کامیابی نہ ہو تو ایسے جوڑوں کو خصوصی معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔ علاج کے طریقوں پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ علاج کی کامیابی میں عورت کی عمر سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔

خواتین کی صحت کے لیے عملی اقدامات کا عالمی دن خواتین کی صحت کے مسائل پر خصوصی توجہ دینے کے لیے 1987 سے منایا جارہا ہے۔ اے کے یو کے اس پروگرام میں ماہرین نے عورتوں سے وابستہ مختلف مسائل مثلاً دوران حمل یرقان، بانجھ پن، عورتوں کی ذہنی صحت، ہڈیوں کا بھربھرا پن اور نئی ما ؤ ں کی جسمانی صحت پر گفتگو کی۔

یرقان یا آنکھوں اور جلد کا زردی مائل ہوجانا جگر کی بیماری کی پہلی یا واحد علامت اور اس کی اہمیت کو سمجھنے کا ایک طریقہ ہے۔ کنسلٹنٹ آبسٹیٹریشن اور گائنی کولوجسٹ ڈاکٹر لمعان شیخ نے کہا کہ دوران حمل یرقان اتفاقیہ یا خود حمل کے نتیجے میں بھی ہوسکتا ہے۔ اگر یرقان حمل کی وجہ سے نہ ہو تو وائرل ہیپاٹائٹس، پتے کی پتھری کی پیچیدگیوں یا ادویات کے ردعمل کے نتیجے میں بھی ہوسکتا ہے۔

کنسلٹنٹ سائیکولوجسٹ ڈاکٹر نرگس اسد نے بتایا کہ خواتین کے ذہنی امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ روایتی طور پر عورتوں کی صحت کو ما ؤ ں کی صحت سمجھا جاتا ہے جس میں اکثر ذہنی، روحانی اور سماجی صحت و عافیت شامل نہیں ہوتی۔ انھوں نے کہا کہ، "عورتوں کی صحت کا تعین محض تولیدی اور حیاتیاتی عوامل سے نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے سماجی عوامل یعنی دبا ؤ ، ذمہ داریوں اور کام کے بوجھ کے وسیع پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ "

کنسلٹنٹ رہیومیٹولوجسٹ (جوڑوں کے امراض کے ماہر) ڈاکٹر کامران حمید نے ترقی پذیر دنیا میں اوسٹیوپوروسس میں اضافے پر بات کی۔ اوسٹیوپوروسس ایک ایسی حالت ہے جس میں ہڈیاں بھربھری ہونے کی وجہ سے بآسانی فریکچر ہوسکتی ہیں۔ معمر خواتین اوسٹیوپوروسس میں زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر حمید نے کہا کہ، "یہ مسئلہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر موجود ہے اور اس کی وجہ سے امریکہ میں سالانہ 1.5 ملین سے زائد فریکچرہوتے ہیں، وہاں یہ صحت کی خدمات پر 13.8 بلین ڈالر کے بوجھ کا باعث بنتا ہے۔ بچا ؤ کے لیے مناسب مقدار میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کے حصول کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جیسے جیسے ترقی پذیر دنیا میں عمروں میں اضافہ ہورہا ہے ویسے ویسے آبادی میں اوسٹیوپوروسس سے ہونے والے فریکچر بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ انھوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ ابتدائی عمر سے ہی بچوں کو مناسب مقدار میں کیلشیم اور وٹامن ڈی لینے کی ترغیب دیں، اور اگر خطرے کے عوامل موجود ہوں یا مینوپاز ہوچکا ہو تو اپنے ٹیسٹ کروائیں۔ اگر اوسٹیوپوروسس کی تشخیص ہوچکی ہو تو مناسب علاج کروائیں۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ، "فرش پر ایسی اشیا بچھائیں اور ایسے جوتے استعمال کریں جن سے پھسلنے کے خطرات کم ہوجائیں۔ "

خواتین کی صحت کا ایک اور اہم پہلو ولادت کے بعد صحت کی بحالی ہے۔ ولادت کا مطلب یہ ہے کہ آپ مختلف مراحل سے گذر رہی ہیں مثلاً نیند کی کمی، زندگی کے نئے دور میں داخل ہونے کے بعد دوران حمل بڑھنے والا وزن کم کرنا وغیرہ۔ نئی ما ؤ ں کی جسمانی بحالی پر بات کرتے ہوئے اسٹاف فزیوتھیراپسٹ اے کے یو، ناہید طارق نے کہا کہ حمل کا نتیجہ جسم، ساخت اور افعال میں ایک بتدریج تبدیلی کی صورت میں نکلتا ہے۔ "گوکہ ولادت کے بعد جسمانی ورزش وہ کام ہے جسے لوگ سب سے آخر میں کرتے ہیں لیکن اس وقت مستعد ہونا دیگر تمام اوقات سے زیادہ اہم ہے کیونکہ یہ میٹابولزم میں اضافہ، زائد وزن میں کمی، توانائی کی فراہمی اور دبا ؤ اور تنا ؤ میں کمی کرتی ہے۔" پیٹ کے عضلات کو سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ زچگی کے بعد پیلوک عضلات کو صحیح کرنے اور پیشاب کو کنٹرول کرنے کے لیے پیلوک فلور کی ورزشیں بہت مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

اے کے یو ایچ نے عوام سے رابطے کے پروگرام اور معاشرے میں فوری تشخیص اور بروقت علاج کی آگاہی پیدا کرنے کے سلسلے میں ' آثار، علامات اور علاج ‘ کے عنوان کے تحت کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ اور یو اے ای میں اب تک 300 سے زائد پروگراموں کا انعقاد کیا ہے جن سے اب تک 50,000 سے زائد افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔

اے کے یو ایچ کا پیشنٹ ویلفیئر پروگرام نادار اور مستحق مریضوں کو علاج کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اے کے یو ایچ میں زیر علاج 73 فی صد مریضوں کا تعلق درمیانے یا کم آمدنی والے طبقے سے ہے۔ 1986میں اس ویلفیئر پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 2 بلین روپے سے زائد رقم 300,000 سے زائد مستحق مریضوں پر خرچ کی گئی ہے۔

 

مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں :

رسول سارنگ، اسسٹنٹ مینیجر میڈیا، فون: 3920 - 486

حسّان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 2927 - 486

پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000

فیکس: 2095 - 493, 4294 - 493

 

 

 

Home Site Map Contact Us
 
School of Nursing Hospitals Medical College Institute for the Study of Muslim Civilisations Institute for Educational Development Examination Board  Home Site Map Contact Us